Pages Menu
TwitterRssFacebook
Categories Menu

Posted in Tarawee_translation | 0 comments

انتیسواں پارہ…تراویح…ترجمہ و خلاصہ …پروفیسر منیب الرحمن الملک

حدیث پاک میں سورة الملک کی بڑی برکات بیان کی گئی ہیں، اسے ”المنجیہ“(نجات دینے والی)اور ”الواقعہ“(حفاظت کرنے والی )کہا گیا،اس سورت کی تلاوت عذابِ قبر میں تخفیف اور نجات کا باعث ہے، اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے موت وحیات کی حکمت بیان فرمائی کہ اس کا مقصد بندوں کی آزمائش ہے کہ کون عمل کے میزان پر سب سے بہتر ثابت ہوتاہے ۔ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے سات آسمانوں کی تخلیق کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کی تخلیق میں تمہیں کوئی عیب یا نقص نظر نہیں آئے گا، ایک بار پھر نظر پلٹ کر دیکھ لو ، کیا اس میں تمہیں کوئی شگاف نظر آتاہے، پھر باربار نظر اٹھا کر دیکھ لو (اللہ کی تخلیق میں کوئی عیب یا جھول تلاش کرنے میں) تمہاری نظر تھک ہار کر ناکام پلٹ آئے گی۔ آسمانِ اول کے نیچے لاتعداد چمکتے تاروں کو اللہ نے قمقموں سے تعبیر فرمایا ۔
آیت:19میں اللہ نے فرمایا کیا انہوں نے اپنے اوپر (کبھی) پر پھیلائے اور (کبھی) پر سمیٹے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھا ، اِن کو (فضامیں) رحمن کے سوا کوئی نہیں روک سکتا۔آیت:23میں فرمایا کہ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے ، دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں عطا کیں،(مگر)کم بندے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں ۔
القلم
اس سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے قلم اور کارکنانِ قضا وقدر کے نوشتوں کی قسم فرما کر کفار کے الزامات سے اپنے رسولِ مکرم ﷺ کا دفاع فرمایا کہ اپنے رب کے فضل سے آپ مجنون نہیں ہیں اور آپ کے لئے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے اور آپ اخلاق کے عظیم مرتبے پر فائز ہیں، عنقریب آپ دیکھ لیں گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کون مجنون تھا۔ عام اصول یہ ہے کہ جس پر الزام ہو ، وہ اپنی صفائی پیش کرتاہے ، لیکن رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے یہ اعزاز عطا فرمایا کہ آپ پر کفار ومشرکین کی جانب سے جو الزام لگائے جاتے رہے ، اللہ تعالیٰ نے آیاتِ قرآنی میں ان کا رد فرمایا۔آیت:4میں اخلاقِ مصطفی کی عظمتوں کا بیان ہے اور یہ عظمت مخلوق کے پیمانے سے نہیں ، خالق عزّوجل کے پیمانے سے ہے۔ ”علیٰ“کا کلمہ عربی میں استعلا یعنی کسی چیز پر کمانڈنگ پوزیشن کو ظاہر کرنے کے لئے آتاہے، اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے کردار کو اخلاق کے رائج پیمانوں سے نہیں ناپا جائے گا بلکہ جو کردار آپ کی ذات کا حصہ بن جائے وہی عظیم قرار پائے گا۔ آیت :8سے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو فرمایا کہ کفار چاہتے ہیں کہ دین کے معاملے میں آپ ان سے بے جا رعایت برتیں تاکہ وہ بھی جواب میں رعایت کریں ، ایسا نہیں ہوسکتا ، حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا اور اس کے بعد ایک دشمنِ رسول (مفسرین کے مطابق یہ ولید بن مغیرہ ہے) کے نو قبیح اوصاف بیان کئے گئے ہیں، اس سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے نبیِ کریم ﷺ کی دل آزاری کرنے والا کتنا ناپسند ہے۔ اس سورت کی آخری آیت کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ اس آیت کو پڑھ کر دم کیا جائے تو نظرِ بد کا ازالہ ہوجاتاہے۔
الحاقہ
اس سورت کے شروع میں قیامت کے حق اور یقینی ہونے کو بیان کیا گیا ہے ، پھر قومِ ثمود وعاد اور فرعون پر نازل ہونے والے عذاب کا ذکر ہے، یہ مضامین قرآن مجید میں کئی جگہ بیان ہوئے ہیں۔ آیت :19سے بتایا کہ قیامت میں جس کا نامہٴ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ، یہ اس کے سرخ رو ہونے کی علامت ہو گا اور وہ افتخار کے ساتھ لوگوں سے کہے گا آوٴ میرا نامہٴ اعمال پڑھو ۔ اس کے برعکس جس کا نامہٴ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، یہ اس کی رسوائی کی علامت ہو گا اور وہ کہے گا کہ کاش مجھے میرا نامہٴ اعمال دیا ہی نہ جاتا اور موت کے ساتھ ہی میرا قصہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوچکا ہوتا۔ انہی آیات میں صالحین کے لئے جنت کی نعمتیں اور منکرین کے لئے اخروی عذاب کا بیان ہے۔
المعارج
اس سورت کے شروع میں عذابِ قیامت کا ایک بار پھر بیان ہے کہ حشر کا ایک دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا ، آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائے گا ، پہاڑ دھنی ہوئی رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے اور کوئی کسی کا پرسانِ حال نہ ہوگا ، اس وقت مجرم یہ تمنا کرے گا کہ بیوی ، بھائی اور رشتے دار سب کو اپنا فدیہ دے کر جان چھڑا لے ۔ اس سورت میں اہلِ حق ، ان کی اعلیٰ صفات اور اُخروی جزا کا بیان ہے ۔اس امر کا بھی بیان ہے کہ قرآن نہ کسی شاعر کا بیان ہے اور نہ کسی کاہن کا کلام ، یہ صرف اور صرف اللہ کا کلام ہے۔
نوح
حضرت نوح علیہ السلام اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں کہ میں نے اپنی قوم کو شب وروز دعوتِ حق دی ، مگر ان کی سرکشی میں اضافہ ہی ہوتارہا ۔ اور جب بھی میں انہیں دعوتِ حق دیتا تو وہ قبولِ حق سے انکار کے لئے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے اور ضد اور تکبر میں اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانپ لیتے ، میں نے ان سے کہا : تم اپنے رب سے استغفار کرو، وہ بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہے، وہ تم پر موسلا دھار بارش نازل فرمائے گا اور مالوں اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا۔ جب نوح علیہ السلام جماعتِ انبیاء میں طویل ترین عرصہٴ تبلیغ گزارنے کے بعدقوم کے ایمان سے مایوس ہوئے تو انہوں نے ان کے لئے دعاءِ عذاب کی کہ اے اللہ ان کا نام ونشان مٹا دے اور اسی موقع پر اپنے لئے ، اپنے والدین کے لئے اور جملہ مومنین اور مومنات کے لئے دعاءِ مغفرت فرمائی۔
اس سورت میں اس امر کا بیان ہوا کہ جنات عالَم بالا میں خبریں لینے کے لئے جایا کرتے تھے ، مگر اب وہ وقت آگیا تھا کہ عالَم بالا میں ان کا داخلہ بند ہوگیااور جو بھی جاتا محافظ ان کا راستہ روک لیتے اور آگ کے گولے ان پر برسائے جاتے۔ جنات نے مشورہ کیا کہ پورے روئے زمین کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ آخر یہ سارا منظر کیوں تبدیل ہوگیا ، ضرور کوئی بڑی تبدیلی آئی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کی ایک جماعت تہامہ (مکہ) کی طرف گئی اور وہاں نبی ﷺ عکاز کے بازار میں اپنے اصحاب کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے ، جب انہوں نے قرآن سنا تو کہا یہی وہ چیز ہے جو ہمارے اور آسمان کے درمیان حائل ہوگئی ہے اور پھر انہوں نے جا کر اپنی قوم کو بتایا کہ ہم نے عجب قرآن سنا ہے جو راہِ ہدایت کی طرف رہنمائی کرتاہے ، ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم ہر گز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے، بے شک ہمارے رب کی شان بلند ہے اور اس کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ بیٹا۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کچھ اطاعت گزار ہیں اور کچھ سرکش ہیں اور جنات کا سرکش گروہ جہنم کا ایندھن بنے گا۔ عربی میں ”ج ن ن“ سے جو بھی کلمات بنتے ہیں ، ان میں ستر اور پوشیدگی کے معنی پائے جاتے ہیں ، اسی معنی میں ”جنّ“ ہے کہ وہ ہماری نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں، گھنے باغ کو کہ زمین درختوں کی کثرت سے چھپ جائے ”جنت “کہتے ہیں، سینے میں پوشیدہ دل کو ”جنان “ کہتے ہیں ، رحم میں بچے کو ”جنین“ کہتے ہیں ، ڈھال کو ”جُنہ“ کہتے ہیں وغیرہ ۔ آیت:26میں فرمایا” وہ ہر غیب کا جاننے والا ہے ، سووہ اپنے ہر غیب پر کسی کو مطلع نہیں فرماتا ، ماسوا ان کے جن کو اس نے پسند فرما لیا ہے ، جو (سب) اس کے رسول ہیں “، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو غیب کا علم عطا فرماتاہے۔
المزمل
اس سورت میں محبت کے انداز میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو ان کی ایک خاص ادا کے ساتھ مخاطَب فرمایا کہ ”اے چادر اوڑھنے والے“ ، اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کے ”قیام اللیل“ کا بیان فرمایا ، قرآن کے اندازِ بیان سے معلوم ہوتاہے کہ آپ ساری ساری رات قیام فرماتے تھے ، تو اللہ نے فرمایا : آپ رات کو نماز میں قیام کریں ، مگر تھوڑا ، آدھی رات یا اس سے کچھ کم کرلیں یا اس پر کچھ اضافہ کردیں اور قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں ۔ یہ بھی فرمایاکہ: رات کو اٹھنا نفس پر سخت بھاری ہے اور کلام کو درست رکھنے والا ہے ۔ نیز فرمایا آپ اپنے رب کے نام ذکر کرتے رہیں اور سب سے منقطع ہوکر اسی کے ہورہیں ۔ دوسرے رکوع میں پھر فرمایا کہ آپ کا رب جانتاہے کہ آپ (کبھی ) دو تہائی رات کے قریب قیام کرتے ہیں اور کبھی آدھی رات تک اور کبھی تہائی رات تک اور آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت بھی مصروفِ عبادت ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تکرار کے ساتھ فرمایا کہ جتنا آسانی سے قرآن پڑھ سکتے ہیں ، پڑھ لیا کریں ۔ علماءِ کرام نے فرمایا کہ یہ تہجد کے بارے میں ہے اور آپ پر نمازِتہجد فرض یا واجب تھی۔
المدثر
اس سورت میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو شانِ محبوبی کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے فرمایا:”اے چادر لپیٹنے والے ، اٹھئے اور لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیے اور اپنے رب کی کبریائی کا اعلان کیجئے“۔ آیت :42میں فرمایا :جہنمیوں سے پوچھا جائے گا کہ تمہارے جہنم میں جانے کا سبب کیا بنا ، تو وہ کہیں گے ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے، ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور ہم لغو کاموں میں مشغول رہتے تھے اور ہم قیامت کے دن کو جھٹلاتے تھے کہ موت سر پہ آگئی ۔ اس سے یہ سبق ملتاہے کہ اہلِ ایمان اور جنت کے طلب گاروں کو جہنمیوں کی عادات سے بچنا چاہیے۔
القیامة
ان لوگوں کے بارے میں جو آخرت کے منکر ہیں ، اللہ تعالیٰ نے قسم ذکر فرما کر ارشاد فرمایا : کیا انسان نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ہم مرنے کے بعد اس کی ہڈیوں کو جمع نہیں کریں گے ، کیوں نہیں ، ہم اس بات پر بھی قادر ہیں کہ ان کی انگلیوں کے پور جیسے پہلے تھے ، ویسے ہی بنادیں۔ آیت:16سے فرمایا: (اے رسول!) وحیِ ربانی کو جلد یاد کرنے کے شوق میں آپ اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کیجئے ، اس قرآن کو جمع کرنا اور آپ کی زبان پر جاری کرنا ہمارے ذمہٴ کرم پر ہے ، سو جب ہم (یعنی ہمارا بھیجا ہوا فرشتہ) پڑھ لیں تو آپ اس پڑھے ہوئے کی اتباع کریں، پھر اس کا (معنی ) بیان کرنا ہمارے ذمہ ہے۔سورت کے آخر میں آخرت کے احوال اور موت کے منظر کو بیان کیا گیا۔
الدھر
اس سورت کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ہدایت دے کر ان کی آزمائش کی ہے ، اس سورت میں انفاق فی سبیل اللہ ، مسکین ، یتیم اور اسیر (قیدی) کو کھانا کھلانے کی نیکی کو اپنے بندوں کو وصفِ کمال کے طور پر بیان کیا ہے۔ اس سورت کی بیشتر آیات میں جنت کی نعمتوں کا ذکر ہے ۔
المرسلات
اس سورت کے شروع میں آثارِ قیامت کا ذکر ہے اور بار بار تکرار کے ساتھ فرمایا کہ اس دن قیامت کو جھٹلانے والوں کے لئے ہلاکت ہے اور آخر میں میں ایک بار پھر اہلِ تقویٰ کے لئے اجرِ آخرت اور اُخروی نعمتوں کی بشارت ہے ۔

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *